گھریلو عورت

مامی تیری روتی تھی راتوں میں چُپ چُپ کہرا ٹپکے جیسے بِھنسارے میں ٹُپ ٹُپ جاگ جاتی سمجھ نہ پاتی پھر بھی کہتی ’مامی رات نہیں روتے ہیں اپنا کچا پکا سب دن میں پوتے ہیں‘ مامی کہتی ’دن میں سانس کہاں ملتی ہے پو پَھٹتے ہی کنبے کی چکّی چلتی ہے میری اماں پارسال …

ممتا کالیا کی کویتا ، منظوم ترجمہ : ارسلان راٹھور

مامی تیری روتی تھی راتوں میں چُپ چُپ
کہرا ٹپکے جیسے بِھنسارے میں ٹُپ ٹُپ
جاگ جاتی سمجھ نہ پاتی
پھر بھی کہتی
’مامی رات نہیں روتے ہیں
اپنا کچا پکا سب دن
میں پوتے ہیں‘
مامی کہتی
’دن میں سانس کہاں ملتی ہے
پو پَھٹتے ہی
کنبے کی چکّی چلتی ہے
میری اماں پارسال پَرلوک
سدھاری
تب سے اب تک
میرے من میں پَھڑ پَھڑ کرتی
یاد پرانی نہیں بساری
گئی نہیں میں
ماما کو تھی کچھ لاچاری
جل گئی باپ کی ایک ہتھیلی روٹی ڈھوتے
بھلے برے سپنوں میں اکثر
چونک ہی جاتے سوتے سوتے“
اور کئی دکھ مامی کے تھے نئے پرانے
”جس دن سے اس گھر میں آئی
کبھی نہیں میں اپنی مرضی جینے پائی
تیرے ماما جاتے ہیں رجّو کے دوارے
پکی پرانی فطرت ان کی
میرا پت جھڑ کون بوہارے
تہمت، تیور، طعنے میں کٹ گئی ہے ساری
خرچ ہوئے دن کون سنوارے
ان کو روکے، کون ہمارا
ان کو ٹوکے، کون ہمارا
کہتے ہیں سب
مردوں کی باتیں ہیں ساری
من ہوتا ہے اُٹھا سروتا
مارے جاؤں
بوٹی بوٹی پر رجّو کی
سارا رجّو پن پی جاؤں
تب میں کہتی
”مامی تم کیسی حاکم ہو
ماما جیسی ہی ظالم ہو
رجّو تو تم جیسی دُکھیا
اُس کے حصے بھی تو آئے
آدھا پونا جُوٹھا مکھیا
ماما کو دو درد اگر انصاف ہے کرنا“
مامی میرے کان کو اینٹھے
فوراً کہتی
سڑی ہے تُو جو منہ میں آیا
بک دیتی ہے
آئیں گے جب ماما تیرے
کروں گی تیری
دیکھ شکایت
سیدھی ہو جائے گی تیری
سب پنچائیت

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button